Nous Videos· 26 Oct 2026· 17:38

Is Delhi’s Racecourse Mosque at Risk, After Saharanpur?

Delhi’s Racecourse Mosque has become the focus of concern following reports of a possible eviction notice, amid fears that it could face demolition.

Full Transcript

میں ابھی اس وقت ریس کورس کی اسی مسجد کے باہر کھڑی ہوئی ہوں جو فلحال چرچہ کا کیندر بنی ہوئی ہے لوگوں میں یہ ڈر ہے یہ خوف ہے کہ کہیں اس مسجد کو بھی سہارن پوری یا دوسری مسجدوں کی طرح بلڈوز تو نہیں کر دیا جائے گا یہیں ابھی کچھ دیر پہلے امام صاحب نے اپنا خطبہ دیا ہے

زاروں قطار روتے ہوئے اللہ کے اس گھر کو بچانے کے لیے میرے رائٹ پر بھی اور میرے لیفٹ پر بھی جو آپ یہ ملبا دیکھیں گے یہاں اس سے پہلے مکان ہوا کرتے تھے یہاں پر جیتی جاگتی زندگیاں تھیں یہاں انہوں نے بہت غلط کرا اور اب یہ مسجد کے پیچھے ہم اپنا گھر تو گھر چکے ہیں لیکن مسجد نہیں ہونے چاہتے یہاں سے ہماری بہت سی آدھے تھی جوڑی بھی دادی کا یہ تھا اور ہمارا سائیڈ میں تھا انہوں نے بس ایک روم دیا ہے

تو یہاں سات سو گھر تھے جو توڑے گئے ہیں جی مہم سات سو آٹھ سو گھر تھے یہاں پر بھی تھے مہم ادھر بھی تھے آپ یہ دیکھیں یہ مسجد دلی گیجٹ میں بھی اس کا نام ہے انیس سو ستتر میں اس کے بعد یہ ہے کہ پلیس آف ورشپ ایکٹ کا بھی اسٹیٹس رکھتی ہے لیکن سب کا وائلیشن ہو رہا ہے کہیں نہ کہیں آج جو وقف کی پروپلٹی کے ساتھ کھلوال کر رہی ہے سرکار اس میں برابر کے شریک یہ وقف بورڈ میں بیٹھے ہوئے مسلمان ادھکاری بھی ہیں اور

اور ایسا لگ رہا ہے کہ مودی سرکار کے دور حکومت میں مساجد اور مدارس دونوں پر ایک طرح سے اس طرح کی لیگل کاروئیہ کی جا رہی ہے

میں ابھی اس وقت ریس کورس کی اسی مسجد کے باہر کھڑی ہوئی ہوں جو فلحال چرچہ کا کیندر بنی ہوئی ہے یہ کہا جا رہا ہے کہ اس مسجد کو نوٹس جاری کیا گیا ہے کہ اس کو خالی کیا جائے یہ امام صاحب نے باقاعدہ طور پر خود ویڈیو بنا کر اس کے بارے میں جانکاری دی تھی لیکن یہ بھی ساتھ ساتھ کہا جا رہا ہے کہ کوئی لکھت نوٹس نہیں دیا گیا ہے یعنی کہ جو نوٹس ہے وہ وربل نوٹس ہے جس میں اس کو خالی کرنے کے لیے کہا گیا ہے

ہے کہ کہیں اس مسجد کو بھی سہارن پوری یا دوسری مسجدوں کی طرح بلڈوز تو نہیں کر دیا جائے گا آج جمعہ کا دن ہے اور جمعہ کے دن ایک طرح سے کچھ لوگوں نے یہ کال دی تھی کہ یہاں پر بڑی تعداد میں لوگ آئیں اور نماز یہاں پر آ کے ادا کریں کچھ لوگ یہاں پر آئے ہیں حالانکہ میں یہ نہیں کہوں گی کہ بڑی تعداد ہے لیکن کچھ لوگ یہاں پر نماز ادا کرنے کے لیے آئے ہیں اس مسجد کا پانی اور جو بجلی ہے وہ اسی ساتھ اکتوبر کو بند کر دی گئی تھی اور میں نے

اندر جا کر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہاں پر پانی جو آج مہیا ہوا ہے وہ جنریٹر لگا کر یہاں پر کیونکہ جمعہ ہے یہ لگ رہا تھا کہ لوگ بڑی تعداد میں آئیں گے تو یہاں پر پانی آج ہے لیکن بجلی نہیں ہے اور وہ جنریٹر کی وجہ سے موٹر چلا کر پانی کا انتظام کیا گیا ہے آپ ابھی پہ اندر اگر آپ جائیں گے تو آپ کو وہاں پر بجلی نہیں ملے گی پنکھے چلتے ہوئے آپ کو نہیں ملیں گے

اور دیکھیں جو میں آپ کو ابھی تھوڑے دیر پہلے بتا رہی تھی وہی آپ یہ دیکھیں یہ مسجد کا وزو خانہ ہے اور یہ دیکھیں یہ جنریٹر کی تھرو یہاں پر موٹر چلا کر پانی کا انتظام جو ہے وہ یہاں پر کیا گیا ہے اور اس سے پہلے کئی دن تک یہاں پر پانی کا کوئی انتظام نہیں تھا کیونکہ بجلی کا کوئی انتظام نہیں ہے اس کے ساتھ ساتھ جو نوٹس جاری کیا گیا تھا وربل جو کہا گیا تھا اس کے تحت جتنی بھی یہاں پر قرآن پاک ہیں یا پھر سپارے ہیں یا دینی ک

طرح سے آپ دیکھیں گے اگر مسجد کے اندر تو ایک بوری میں بھر دیا گیا ہے کیونکہ ان کو ڈر ہے کہ کسی بھی وقت کچھ بھی کیا جا سکتا ہے

ابھی میں اس وقت یہاں پر مسجد کے اندر کھڑی ہوئی ہوں آپ کو پتہ ہے کہ آج جمعی کی نماز یہاں پر ادا کی گئی ہے لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ پولیس کی پوری نگرانی میں اس نماز کو ادا کیا گیا ہے ہم نے بہت کوشش کی کہ امام صاحب سے ہم بات کریں ان کے جانے کی وہ کیا اس سب کے بارے میں سوچ رہے ہیں لیکن ان کے اوپر بھی آپ یہ دیکھیں کہ اتنا پریشر ہے کہ سب کچھ ان سے کہنے کے بعد ان سے ریکویسٹ کرنے کے بعد بھی ان سے بات نہیں ہو پائی ہے ابھی آپ یہ دیکھیں کہ لگاتار

یہاں پر لوگوں کے آنے کا سلسلہ جاری ہے لوگوں کو یہ ڈر ہے کہ اب تک جس طرح سے اور تمام مساجد کو شہید کیا گیا ہے کہیں ایسا تو نہیں دھوکے سے اس مسجد کو بھی شہید کر دیا جائے میں چاہوں گی کہ مہربان آپ اندر آئیں اور میں آپ کو دکھانا چاہوں گی کہ یہ آپ یہ دیکھیں یہ سب جو آپ دیکھ رہے ہیں یہ تمام جو

قرآن شریف ہیں سپارے ہیں دینی کتابیں ہیں ان سب کو یہاں پر پیک کر کے رکھا گیا ہے آپ سوچئے امام صاحب کو کس طرح کا ڈر جو ہے وہ لگ رہا ہوگا یہیں ابھی کچھ دیر پہلے امام صاحب نے اپنا خطبہ دیا ہے زار و قطار روتے ہوئے اللہ کے اس گھر کو بچانے کے لیے اس پروردگار سے ہی انہوں نے دعا مانگی ہے کیونکہ ان کو ایسا لگ رہا ہے کہ شاید باقی سارے دروازے بند ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں یہ آپ دیکھ سکتے ہیں آگے بھی یہاں پ

قرآن شریف وغیرہ ہیں وہ بھی یہاں پر اسی طریقے سے پیک کر کے رکھے ہوئے ہیں کیونکہ ان کو

یہ ڈر ہے کہ ایسا نہ ہو جس طرح سے سہارنپور کی مسجد میں کیا گیا تھا کہ امام صاحب کو یہ موقع بھی نہیں دیا گیا تھا کہ وہ ان تمام چیزوں کو باہر بھی نکال سکیں میں آپ کو یہاں یہ بھی بتاتی چلوں کہ جو نائنٹین سیونٹی سیون کا جو گیزٹ ہے اس میں یہ مسجد جو ہے آفیشلی شامل ہے انڈی ایم سی کی یہ ہیریٹیج جو سائٹ ہے جو اس کی لسٹ ہے اس میں یہ مسجد شامل ہے اکثر ہوا کرتا یہ ہے کہ جو ہیریٹیج سائٹس ہوتی ہیں ان کو سرکار ان کا سنرکشن کرتی ہے

لیکن یہ پہلی سرکار ہے جو ایک لینڈ گریبر کی بھومکہ میں یہاں پر نظر آ رہی ہے اور ہیریٹیج سائٹس یہی نہیں اس کے علاوہ سہارنپور کی بھی جو مسجد تھی وہ بھی ایک طرح سے اگر ہم دیکھیں تو ایک ہیریٹیج کی طرح ہی تھی کیونکہ وہ بھی سو سال سے زیادہ پرانی مسجد تھی اور یہ بھی سو سال سے زیادہ پرانی مسجد ہے لیکن اب اس پر بھی بلڈوز ہونے کا خطرہ مندر آ رہا ہے یہ جو آپ پیچھے میرے ملبا دیکھ رہے ہیں ادھر بھی میرے ر

اور میرے لیفٹ پر بھی جو آپ یہ ملبا دیکھیں گے یہاں اس سے پہلے مکان ہوا کرتے تھے یہاں پر جیتی جاگتی زندگیاں تھی یہاں پر لوگ اپنا مستقبل بنا رہے تھے چار چار پانچ پانچ پیڑیاں ان کی یہاں پر رہی بڑی اور پروان چڑی لیکن سیکیورٹی کا حوالہ دے کر اچانک سے سیکیورٹی کا حوالہ دے کر ساتھ سو سے زیادہ ہندو اور مسلمان دونوں کے مکان جو ہیں وہ یہاں پر بلڈوز کر دیے گئے ہیں سال سے رہ رہے تھے ہم چوتھی پی

اچھا تو کیا کہہ کے تمہاری ہٹائی ہے؟ مہم بولے یہاں پر ارفوس والوں کو دکھا دوری ہے پی اے ماؤس پر دکھا دوری ہے گنڈے گنڈے بننے یہاں سے آج تک کبھی زندگی میں کیس ہوا ہی نہیں پولیس تھانی میں آج تک کوئی کیس ہی نہیں ہے ریشکوز مسجد کے نام سے کبھی کیس ہوا ہی نہیں مہم انہیں بھگانا تھا کہ کوئی امبانی امبانی لے رہے ہوئیں گے جمینی علی آپ کا کونسا گھر تھا؟ یہ روئی مد بھائی روئی مد روئی مد بھائ

اب میری سادی ہو گئی میری بھی کچھ ٹیم بعد بچے ہو جائے گا پانچو پیٹی سٹارٹ ہو گئی آلٹرنیٹیو کوئی گھر دیا گیا ہے؟ مہم گیورا میں دیا ہے بہت چھوٹا گھر دیا ہے میری چار بہن ہیں ایک ممی پاپا میں ہیں اور داد دادی میرے ساتھی ہیں تو سب ایک ہی روم میں ہیں وہاں بس چپک چپک کے سونا پڑ رہا ہے بہت چھوٹا سا روم ہے وہ بات کریں گے آپ کیا نام ہے آپ کا؟ زیشان زیشان کب سے رہ رہے تھے آپ یہاں پر؟ ہمیں رہتے ہوئے یہا

اور اپنے زندگی کے سب سے خوبصورت پر میں نے گھر میں پیتا ہے جو آج کھانا ہے سب چیز جس سے پائی تھی نوکری ہو گئی ہے ایک چیز ساری خوشی دوگ تکلیف سب زیشان آپ کو یہ نوٹس جو ملا تھا کہ گھر آپ کا ٹوٹے گا یا خالی کر دیجئے کیا کہا گیا تھا آپ لوگوں سے کیا ہوا تھا کہ یہ ہم یہاں پہ جو نیشنل سیکیورٹی کا ایشونوں نے بتایا تھا جو ہمیں یاد اچھے تھے اور یہاں پہ ہمیں دھکے دے کے باہر نکال دیا یہ

سٹارٹنگ پوائنٹ تھی میری زندگی کی جو آج خندر بنا ہوا ہے ہمارا وہ تھا دادی کا یہ تھا اور ہمارا سائیڈ میں تھا انہوں نے بس ایک روم دیا ہے تو یہاں سات سو گھر تھے جو توڑے گئے ہیں سات سو آٹھ سو گھر تھے یہاں پر بھی تھے میری زندگی کی پہلی چیز تھی کمائی ہے جس میں میں نے لگائی تھی یہ ٹیل ہے جو آپ دیکھ رہے ہو یہ گرین بہت سی چیزیں تھے اور یہ آج ایسا دیکھتے ہم کاغل ہو رہے ہیں

سبر کریں بھائی آپ سبر کریں زیشان سبر ہے اللہ کا اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے ابھی بھی انہوں نے اتنی طاقت دے رکھے ہیں سب کچھ کر رہے ہیں بغت رہے ہیں میں دیلی جمکانہ کلوں میں کام کرتوں بہت ہوسے میں نے بھی بات کی ہے ان کا بولنے یہی ہے کہ یہ جو سرکار ہے یہ بہت غلط ہے یہ اب کسی کو کچھ نہیں دیکھ رہے ہیں انہیں صرف اپنے سے مطلب ہے جہاں پر ہمیں گھر ملے وہاں پر کل مڈر ہوا چار سو میٹر دوری مڈر ہوا کل ہمارے دوری جہاں انہ

یہاں پر کبھی آج تک ایسا کچھ ہوا ہی نہیں نہ مرڈا نہ لڑا ہی نہ کچھ وہاں پر جا جا کے اور دو تین تو کل مریض تھے ہسپیٹل بہت دور پڑھ رہے تھے وہ گھر میں دم توڑ دیا لے جانے سے پہلے دم توڑ دیا ہم سب چیز دیکھ رہے ہیں یہاں سے بہت ہماری یادیں جڑی تھی یہ ہماری بہن ماں بیٹی سیف تھی بہت اچھے تھی سیف تھی ہماری بھی دوسروں کی بھی کیونکہ موس سیکیور علاقہ ہے یہ بہت زیادہ ہے ہم یہاں پر

ایسا تھا، اچھا، پر آج تک کوئی غلط کام نہیں ہوا یہاں پر مطلب ہندو مسلم بھی نہیں ہوئے کبھی سارے بھائی ملکے رہتے تھے یہاں پر تو گھر مسلمانوں کا بھی توڑا گیا اور ہندووں کا بھی توڑا گیا یہاں پر دونوں کا توڑا گیا یہاں پر یہاں انہوں نے بہت غلط کرایا اور اب یہ مسجد کے پیچھے ہم اپنا گھر تو ہو چکے ہیں لیکن مسجد نہیں ہونے چاہتے یہاں سے ہماری بہت سی یادیں ایسی جوڑی ہوئی ہیں ہم نے ایک ایک پہلے ایک چ

آپ کو لگ رہا ہے آپ کی تکلیف ڈبل ہو گئی اگر گھر بھی گیا اور مسجد بھی گئی تو آپ کے لیے تکلیف آپ کی ڈبل ہے تکلیف ڈبل نہیں ہے ہم چکنا چور ہو جائیں گے ابھی ہم ٹوٹے ہیں اور اب کبھی نہیں چوڑ پائیں گے اگر مسجد ٹوٹ جائے گی کیونکہ یہی ایک لاشٹ آپشن بچا ہے جس کی وجہ سے ہم سروائف کر پائیں گے آگے زندگی میں اسے دیکھ کے خوش ہو پائیں گے کہ گھر تو چلا گیا کم سے کم ایک چیز تو ہے جس میں ہم نے پورا بچپنا بتایا ہے ہر ا

مندر کا بھی تو نام ہم نے سنائی نہیں کہ جھوٹ بولے مسجد کا نام ہی سننا ہے مسجد توڑنے کے لئے بولے جا رہے ہیں بار بار میں آپ سے بنتی کرتا ہوں کہ آپ ہندو بھائی ہیں مسلمان بھائی ہیں ایک بار ہی آئے ہماری مسجد اور اپنا مندر بچائیں مندر مسجد کی نہیں بات اللہ کے اور بھگوان کے گھر کو بچانے کی ہم اپنا تو نہیں بچا پائے ہم مل کے ان کا بچا سکتے ہیں ابھی بھی ٹائم ہے

تھوڑا سمجھئے اس چیز کو میں ساتھ فلحال ایک ینگ ایڈوکیٹ عبدالقادر میرے ساتھ ہیں اور وہ یہاں پر کافی دیر سے میں دیکھ رہی ہوں کہ وہ یہاں پر ہیں آپ کو کیوں لگا عبدالقادر کہ آپ کو یہاں پر آنا چاہیے اور اس ایشو کو اٹھانا چاہیے میری یہاں آنے کی خالص ایک نیت تھی اور وہ یہ تھی کہ جس طرح رات کے اندھیرے میں جگہ جگہ چوروں کی طرح ہماری مساجدوں کو شہید کیا جا رہا ہے اس دور اقتدار میں بی جے پی کے

ایسا نہ ہو کہ یہ چوروں کی طرح ہماری اس ریسکورس کی مسجد کو بھی شہید کر دیں ہمیں حکومت کو یہ دکھانا ہوگا کہ اگر اب آج کے بعد ہماری آپ کسی بھی مسجد کو اللیگل طریقے سے نوٹس بھیجیں گے سمیدھان کے خلاف جا کر سماج میں صرف نفرت پھیلانے کی نیت سے آپ لوگ اس طریقے کا کام کریں گے تو ہم لوگ اپنی مساجدوں کو بچانے کے لیے گھروں سے نکلیں گے قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے نکلیں گے آواز اٹھائیں گے

آپ دیکھیں کہ کل میں نے یہ سپیچ دی تھی اور کل پوسٹ بھی ڈالیا تھا کہ ایک بجے سبھی مسلمان جمعی کی نماز عدہ کرنے کے لیے پہنچیں اور آپ یہ دیکھیں صرف گنے چونے مشکل تھے بیس پچیس مسلمان نے دلی میں

میں تو سلام پیش کرتا ہوں جین کے مسجد کے ان مسلمانوں کو جنہوں نے مسجد میں رکھ کر مسجد کی حفاظت کری دودھ کا پھوکا ہوا چھاچ میں پھونک مار کے پیتا ہے اب سے پہلے جہاں جہاں ہماری عبادت گاؤں کو شہید کیا گیا ہے توڑا گیا ہے وہ قانونی پرکریہ اپنائے بینا توڑا گیا ہے

ہمیں ڈر اس بات کا ہے کہیں ایسا نہ ہو ان مسجدوں کی طرح اس کو بھی قانونی پرکریہ اپنائے بھی نہ اور یہ کہہ کر کہ آپ سے کہا تو تھا ورولی دیا تو تھا بتایا تو تھا آپ سے اور رات کے اندیرے میں اسی روڈ سے بلڈوجر جائیں اور ہماری مسجد کو شہید کر دیں سرکار چاہے تو کچھ بھی کر سکتے اس دیش میں ڈیو پروسیس آف لوگ کے تحت تو کچھ بھی نہیں چلنا آپ یہ دیکھیں یہ مسجد

دلی گیجٹ میں بھی اس کا نام ہے انیس سو ستتر میں اس کے بعد یہ ہے کہ پلیس آف ورشپ ایکٹ کا بھی اسٹیٹس رکھتی ہے لیکن سب کا وائلیشن ہو رہا ہے ہم جانتے ہیں وقف بورڈ میں بیٹھے ہوئے مسلمان ادھکاری جو رشوت کھا کھا کر جنہوں نے اپنا پیٹ موٹا کر لیا ہے اور آج جب وقف کی پروپرٹی کے ساتھ کھلوال ہو رہا ہمارے بزرگوں نے اللہ کے نام پر جو زمین دان کری وقف کری اس لیے تھولی کری یہ وقف بورڈ میں جو بیٹھے ہوئ

اس لیے نہیں کی تھی کل مجھے حیرت ہوئی کہ وقف بورڈ نہ تو خود کھڑا ہو رہا نہ وقف ٹیوبنل کے آفیسر سے دوسری بار وقف بورڈ یہ بھی نہیں چاہ رہا کہ دوسرے کچھ لوگ ہم سے این او سی لے کر وہ لڑیں کہیں نہ کہیں آج جو وقف کی پروپرٹی کے ساتھ کھلوار کر رہی ہے سرکار اس میں برابر کے شریک یہ وقف بورڈ میں بیٹھے ہوئے مسلمان ادھکاری بھی ہیں

اور میرے ساتھ اس وقت SQR علیہ السلام صاحب موجود ہیں جو کہ All India Muslim Personal Law Board کے سپوکس پرسن ہیں اور عمر خالد کے والد بھی ہیں علیہ السلام صاحب میرا سوال آپ سے یہ ہے کہ ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ مسجد در مسجد کسی کو نوٹس دے کر کسی کو رات کے اندھیرے میں بلڈوز کیا جا رہا ہے ایسا لگ رہا ہے کہ ایک سسٹیمیٹک دھنگ سے جو ہم واتس ایپ یونیورسٹی میں ایک لسٹ

دیکھتے تھے ہزاروں مساجد کی اور لگتا تھا کہ ایسا تو نہیں ہو سکتا کیا آپ کو ایسا لگ رہا ہے کہ فیلحال وہی سب ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے دیکھیں جہاں تک ریس کورس کے مسجد کا تعلق ہے بنیاد یہ ہے کہ یہ مسجد جو ہے ایک سو سال سے زیادہ پرانی مسجد ہے دوسری بات یہ کہ یہ ہیریٹیج بیلڈنگ کے اندر اس کا شمار ہے انڈی ایم سی کے اندر ہیریٹیج بیلڈنگ ہے

اورکیلوجیکل سروف انڈیا سے پروٹیکٹڈ مارنومنٹ ہے وہ بورٹ کے اندر یہ موجود ہے ریجسٹرڈ ہے گیزیٹڈ ہے اور امید پورٹل کے اوپر بھی اپلوڈڈ ہے تو یہ سب دستاویزات ہونے کے باوجود بھی آپ کس بنیاد کے اوپر میں اس مسجد کو ڈیمولیش کریں گے یا اس مسجد کو ڈیمولیشن کا نوٹیج دیں گے پھر دوسری بات یہ کہ ہمارے ملک کے اندر ایک

نائنٹی نائنٹی ون کے اندر ورشپ کلیسز ایف کے نام سے خانو بنایا گیا تھا جس میں یہ بات کہی گئی تھی کہ پندرہ ڈسمبہ انیس سو انچاس کو انیس سو سنتالیس کو جس عبادتگاہ کی جو پوزیشن تھی وہ والا حالہ ہی باقی رہی اس کو ڈسٹرم نہیں کیا جائے گی لیکن یہ سب چیزیں یعنی قانونی دستاویزات موجود ہیں شواہد موجود ہیں تاریخی شواہد موجود ہیں اور لیگل ریکارڈ موجود ہیں

گیزیٹڈ چیزیں ہیں اس کے باوجود بھی اس طرح کی جو حرکتیں کی جاری ہیں یہ سب انیگل حرکتیں ہیں اور یہ غلط ہو رہا ہے جو کچھ بھی ہو رہا ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ مودی سرکار کے دور حکومت میں مساجد اور مدارس دونوں پر جو ہے ایک طرح سے اس طرح کی انیگل کاروئییں کی جاری ہیں میں اس وقت جہاں پر کھڑی ہوئی ہوں یہاں سے پی ایم آواس چند قدموں کی دوری پر ہے

یہ جو پیچھے آپ میرے گیٹ دیکھ رہے ہیں اس گیٹ سے ہوتے ہوئے آگے جب آپ جاتے ہیں تو یہاں پر وہی مسجد ہے جس پر یہ خطرہ منڈرا رہا ہے کہ کہیں اس کو

اور تمام مسجدوں کی طرح بلڈوز تو نہیں کر دیا جائے گا جب آپ یہاں سے آگے بڑھتے ہیں تو یہاں پر یہ ایک چیتاونی لکھی ہوئی ہے جو یہ یہاں پر کہتی ہے کہ یہاں بھارتی ناغرک سرکشہ سہنتہ کی دھارہ ایک سو تریسٹھ لاغو ہے پانچ ایسے زیادہ ادھک ویقتی یا ویقتیوں کا سموز شیطر میں اکترت نہ ہو اس شیطر میں کسی بھی پرکار کا دھرنا پردرشن دورجت ہے اس کا علنگن کرنے پر قانونی کاریوائی کی جائے گی اور یہ پول

موسیقی

مسجد ہے جس پر یہ خطرہ منڈرا رہا ہے کہ یہ بلڈوز کی جا سکتی ہے اور اسی لئے لگاتار لوگوں کا موبیلائزیشن یہاں پر ہے کہ ان کو لگ رہا ہے کہ اس سے پہلے یہ بلڈوز ہو کیا ہم کچھ ایسا کر سکتے ہیں کہ اس کو سہارنپور یا دوسری جو مسجد ہیں ان کی طرح سے بلڈوز ہونے سے بچا لیں

اس مسجد پر تو ابھی خطرہ ہے لیکن ایک اور مسجد ہے شالمار باغ کی جس کو بلڈوز کر دیا گیا ہے اور اسی طریقے سے اور بھی کئی مسجد ہیں جن پر بلڈوز ہونے کا خطرہ لگاتار منڈرا رہا ہے کیونکہ ایک کے بعد ایک ایسا لگتا ہے کہ پورے ایک ٹارگٹ لسٹ جو ہے وہ تیار کی گئی ہے جس پر ایک کے بعد ایک نوٹسز جو ہیں وہ مساجدوں کو دیے جا رہے ہیں اکثر یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ ایک مسجد چلی گئی تو کیا ہوگا یہ کہاں

جاتا ہے لیکن آپ یہ دیکھیں لیکن مسجد در مسجد اگر ایک تارگٹ کے تحت اس کو ان مسجدوں کو بلڈوز کیا جا رہا ہے تو آپ سمجھ لیجئے کہ رسس اور اس سرکار کی منشاہ کیا ہے

Discussion

0

Readers only · Comments are reviewed by the desk before they appear

Readers only

The journalism is free for everyone — create a free account to join the discussion.

More from Nous Videos